“قوم سبا پر اللہ کے عذاب کا واقعہ ایک عبرت آموز داستان ہے جو قرآن کی تعلیمات میں بیان ہوئی ہے۔ اہل سرسار کی یہ عظیم قوم اللہ کی نعمتوں میں خوشحال تھی”

اہل سرسار کی ایک عظیم قوم تھی، جسے عام طور پر قوم سبا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کی بے شمار نعمتوں میں زندگی گزار رہے تھے اور ایک عظیم تہذیب و تمدن کے حامل تھے۔ ان کی حکومت حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بھی زبان زد خاص و عام تھی، اور ان کی طاقت، دولت اور حکمت کی کہانیاں دور دور تک مشہور تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ گندم کے مغز سے آٹا پیس کر روٹیاں پکاتے تھے، جو ان کے روزمرہ کے رزق کا بنیادی حصہ تھا۔

لیکن اس کے باوجود یہ قوم اتنی ناشکر اور اصراف کرنے والی تھی کہ وہ انہی روٹیوں کے ساتھ بچوں کے پاخانے کو صاف کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ان آلودہ روٹیوں کا ایک پہاڑ بن گیا، جو ان کی فضول خرچی، ناشکری اور ظلم کی ایک واضح علامت تھا۔

ایک روز ایک صالح شخص وہاں سے گزرتا ہے اور ایک عورت کو دیکھتا ہے جو روٹی کے ساتھ بچے کے پاخانے کی صفائی کر رہی تھی۔ اس شخص نے عورت سے کہا “تیرے اوپر افسوس، خدا سے ڈر کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا تجھ پر اپنا غضب نازل کرے اور تیری نعمت چھین لے۔” عورت نے مغرورانہ انداز میں جواب دیا: “جاؤ جاؤ، گویا کہ مجھے بھوک سے ڈرا رہے ہو۔ جب تک سرسار جاری ہے، مجھے کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔”

کچھ وقت بعد اللہ تعالی نے اپنی نعمتیں ان پر روک دیں۔ پانی، جو کہ زندگی کی بنیاد ہے، ان سے چھین لیا گیا اور قحط نازل ہوا۔ ان کی ذخیرہ شدہ تمام غذا ختم ہو گئی اور وہ مجبور ہو گئے کہ آلودہ روٹیوں پر گزارہ کریں، جو انہوں نے اکٹھی کر کے پہاڑ کے مانند ڈھیر لگا رکھی تھی۔ یہاں تک کہ وہاں سے روٹی لینے کے لیے لوگ قطار میں لگنے لگے تاکہ ہر کوئی اپنے حصے کی روٹی حاصل کر سکے۔

یہ واقعہ قرآن مجید میں سورہ نحل کی آیات 112 اور 113 میں بیان ہوا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قومیں جو اپنی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتیں، انہیں بھوک اور تنگدستی کا مزہ چکھایا جاتا ہے۔ اور یقینا ان کے پاس رسول آیا، لیکن انہوں نے اسے جھٹلایا، جس کے نتیجے میں ان تک اللہ کا عذاب پہنچا۔

قوم سبا کی زراعت اور بند معرب

قوم سبا نے اپنی زراعت کو بہتر بنانے کے لیے ایک عظیم منصوبہ بنایا۔ انہوں نے بلق کے دو پہاڑوں کے درمیان بند معرب تعمیر کیا تاکہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ سوراخ اور پہاڑوں سے بہنے والا پانی اس بند میں جمع ہوتا اور زمین کو زرخیز بناتا۔ قوم سبا نے اس پانی سے وسیع و عریض اور خوبصورت باغات لگائے، اور کھیتی باڑی کو رونق بخشی۔

ان باغات میں درخت اتنے پھلوں سے بھرے تھے کہ اگر کوئی شخص ٹوکری سر پر رکھ کر ان کے نیچے سے گزرتا، تو پھل خود بخود ٹوکری میں گرنے لگتے اور کچھ ہی دیر میں ٹوکری تازہ پھلوں سے بھر جاتی۔ نعمتوں کی کثرت نے قوم سبا کو مغرور اور ناشکر بنا دیا، یہاں تک کہ ان کے درمیان ایک بڑے طبقاتی نظام نے جنم لیا اور طاقتور افراد نے کمزوروں کا استحصال شروع کر دیا۔

یہاں تک کہ انہوں نے اللہ سے احمقانہ درخواست کرنا شروع کر دی۔ سورہ سبا کی آیت 19 میں ذکر ہے کہ انہوں نے کہا
“خدایا ہمارے شہروں کے درمیان فاصلہ زیادہ کر دے تاکہ ہمارے ہم سفر امیر اور طاقتور ہوں، اور غریب ہمارے ساتھ نہ رہیں۔”
ان کی خواہش تھی کہ زمین کے وسائل صرف ان کے لیے محدود رہیں اور کمزور لوگ ان کے ہم سفر نہ بن سکیں۔

اللہ کا غضب اور قوم سبا کی تباہی

اللہ تعالیٰ نے ان مغرور لوگوں پر اپنا غضب نازل کیا۔ بعض روایتوں کے مطابق، ان کی آنکھوں سے دور صحرائی چوہوں نے بند معرب کی دیواروں پر حملہ کر کے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کے بعد بارشوں نے شدت اختیار کی، اور بند پھٹ گیا۔ پانی کا سیلاب تمام دیہات، آبادیاں، مال مویشی، باغات، کھیتیاں، محل اور گھر تباہ کر گیا۔

ان کے باغات اور زراعت میں سے صرف کچھ بیری کے درخت اور جھاڑیاں بچ سکیں۔ خوشحال پرندے وہاں سے کوچ کر گئے، جبکہ الو اور کوؤں نے کھنڈرات میں گھونسلے بنا لیے۔ قرآن میں اس واقعہ کا ذکر سورہ صبا کی آیات 15، 16 اور 17 میں ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا
“یہ ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی ہے اور ہم نا شکروں کے علاوہ کسی کو سزا نہیں دیتے۔”

قوم سبا کی کہانی سے اہم سبق

ناشکری کا انجام: نعمتوں کی قدر نہ کرنے والے قومیں اللہ کے عذاب کا نشانہ بنتی ہیں۔

اصراف اور مغرورانہ رویہ نقصان دہ: دولت اور طاقت کی زیادتی انسان کو مغرور کر سکتی ہے اور سماجی برائی پیدا کرتی ہے۔

صدقہ اور شکر کی اہمیت: حقیقی خوشحالی صرف اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں ہے۔

اللہ کی عدل و انصاف: ظلم کرنے والے اور کمزوروں کا استحصال کرنے والے قوموں کا انجام تباہی اور عذاب ہے۔

قوم سبا کی کہانی کا خلاصہ اور پیغام

قوم سبا کی مثال آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک روشن سبق ہے کہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا ضروری ہے اور مغرورانہ رویہ، اصراف اور ظلم کا انجام تباہی ہے۔ اللہ کی جانب سے بھیجے گئے رسولین کی نصیحتیں اور قرآن کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دولت، طاقت اور وسائل کا صحیح استعمال شکر کے ساتھ کرنا چاہیے، نہ کہ مغرور اور ظالم بننا چاہیے۔

قوم سبا کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے ساتھ انصاف، عاجزی، شکرگزاری اور دوسروں کا احترام ہمیشہ کامیابی اور سکون کا سبب بنتا ہے، جبکہ ناشکری اور ظلم تباہی اور عذاب کا موجب بنتا ہے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here